انرگیس پاکستان میں 750 ایم ایم سی ایف ڈی کا ایل این جی ٹرمینل لگائے گی
سرمایہ کاری کی سہولت سے متعلق خصوصی کونسل ایس آئی ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے پیٹرول ڈویژن کو حکم دیا ہے کہ وہ گیس کی فراہمی پر ’میرٹ آرڈر‘ تیار کرے جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ صنعت، کھاد، بجلی کی پیداوار، کمرشل اور گھریلو صارفین میں سے کس شعبے کو گیس ترجیحی بنیادوں پر ملے گی۔
سیکریٹری پیٹرولیم کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ میرٹ آرڈر تیار ہونے کے بعد نگراں وزیر خزانہ اس کا جائزہ لیں گے۔
یاد رہے کہ میرٹ آرڈر سے تعین کیا جاتا ہے کہ کون سے شعبے کو پہلے توانائی فراہم کی جائے گی اور کس شعبے کو ترجیحی فہرست میں نیچے رکھا جائے گا۔
خزانہ، صنعت و پیداوار اور توانائی کے نگران وزرا اور متعلقہ سیکریٹری مل کر توانائی کی قیمتوں اور فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل طے کریں گے جس میں گیس کے ٹیرف کے معاملات بھی مد نظر رکھے جائیں گے۔ اس کے بعد یہ معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔
ایس آئی ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بتایا گیا کہ انرگیس پاکستان میں 750 ایم ایم سی ایف ڈی کا ایل این جی ٹرمینل قائم کرنا چاہتی ہے جس کے لیے کمپنی نے کچھ مراعات مانگی ہیں۔
ایگزیکٹو کمیٹی کو بتایا کہ آر ایل این جی یعنی درآمدی گیس جب گھریلو صارفین کو فراہم کی جاتی ہے تو اس کی لاگت کا فرق وصول کرنے کےلیے اب تک قیمت کا کوئی میکنزم نہیں بنایا گیا جس کے نتیجے میں پچھلے سال میں اس مد میں 250 ارب روپے کے بقایا جات جمع ہو گئے جب اس مرتبہ 210 ارب روپے کا خرچ متوقع ہے۔