سرکاری ڈسکوز اور کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی سستی کر دی گئی، سرکاری تقیسم کارکمپنیوں کے صارفین کیلئے فی یونٹ 1 روپے 22 پیسے کی کمی کردی گئی۔
ملک بھر کے بجلی صارفین کیلئے اچھی خبرسامنے آئی ہے، سرکاری ڈسکوز اور کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی سستی کردی گئی۔
سرکاری تقیسم کار کمپنیوں کے صارفین کیلئے فی یونٹ 1 روپے 22 پیسے کی کمی جبکہ کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی کی فی قیمت میں 1 روپے 23 کی کمی کی گئی۔
قیمتوں میں کمی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی۔ کے الیکٹرک اور ڈسکوز کیلئے قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسکوزکے صارفین کیلئے دسمبرکے ایف سی اے کی مد میں کمی کی گئی۔ کے الیکٹرک صارفین کیلئے ماہ نومبر کے ایف سی اے کی مد میں بجلی سستی کی گئی۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ملک بھر کے صارفین پر قیمت میں کمی کا اطلاق فروری کے بلوں پرہوگا۔
اس سے قبل چیئرمین نیپرا کی سربراہی میں تقیسم کار کمپنیوں کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ بجلی کمپنیوں نے صارفین کو52 ارب 12کروڑ روپے ریلیف دینے کی درخواست کی۔
بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اہم پیشرفت، کنسورشیم سے معاہدہ ہوگیا
حکام نے بتایا کہ دسمبر میں صنعتی سیکٹر کی 7 فیصد کھپت بڑھی ہے جبکہ کیپیسٹی چارجز میں کمی کی بڑی وجہ 5 تھرمل پاور پلانٹ کے کنٹریکٹ منسوخ ہونا ہے، روپے کی مقابلے میں ڈالر کی قدر میں بڑا اضافہ نہ ہونا بھی قیمتوں میں کمی کا سبب بن رہا ہے۔
دوران سماعت پاور ڈویژن حکام نے اتھارٹی کو بتایا کہ 5 آئی پی پیز کے کنٹریکٹس ختم ہونے سے اس سہ ماہی میں 12 ارب، نیلم جہلم پاور پلانٹ نہ چلنے سے 18 ارب اور کے ٹو اور کے تھری پلانٹس کی لون ری پروفائلنگ سے بھی 18 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔
دوران سماعت گردشی قرض پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی صارفین پر ڈالے جانے کا انکشاف ہوا ہے، سی پی پی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ گردشی قرض پر سودکی ادائیگی صارفین پر 2 روپے 83 پیسے فی یونٹ بوجھ کا سبب بنتی ہے اس وقت گردشی قرض کا حجم 2384ارب ہے۔
نیٹ میٹرنگ کی پالیسی سولر استعمال نہ کرنے والوں کیلئے بوجھ بن گئی
اتھارٹی نے تفصیلی غورکے بعد سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں سماعت مکمل کی۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے نیپرا کو درخواست دی تھی کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخ کم کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق کیپیسٹی چارجز کی مد میں 50 ارب 66 کروڑ روپے کی کمی مانگی گئی، جبکہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات کی مد میں 2 ارب 66 کروڑ روپے کی کمی کی درخواست دی گئی۔ اس کے علاوہ آپریشنز اور مینٹیننس کی مد میں 2 ارب 69 کروڑ روپے کی رقم کم کرنے کی تجویز دی گئی۔
یہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اکتوبر سے دسمبر 2024 کے عرصے کے لیے ہوگی اور اس کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی کیا جائے گا۔